Friday, 2 December 2011

پاکستان تباہی کے سفر پر، سابق امریکی جنرل


واشنگٹن: امریکا کی قومی سلامتی کے سابق مشیر جنرل (ر) جیمز جونز نے کہا ہے کہ پاکستان ایک ایسا ملک ہے جو کہ خود اپنی تباہی کے راستے چل رہا ہے۔
ایک انٹرویو کے دوان جنرل جیمز کا کہنا تھا کہ پاکستان امریکا سمیت دیگر کی جانب سے دیئے جانے والے مواقع کا فائدہ نہیں اٹھا رہا ہے ، یہ مواقع سے پاکستانی معاشرے کو ڈرامائی انداز میں تبدیل کر دیں گے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کو ملنے والے مواقع ملک کو اندرونی و بیرونی تنازعات سے آگے بڑھنے میں مدد دیں گے۔
میمو تنازعے پر جیمز جونز کا کہنا تھا کہ انہیں 9 یا 10 مئی کو ایک ای میل ملی تھی اور انہوں نے ایک سویلین کی حیثیت سے اس معاملے میں چھوٹا سا کردار ادا کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ وہ اور مائیک مولن اچھے دوست ہیں اس لیے ان کے لیے آسان تھا کہ وہ ان کو کوئی بھی پیغام پہنچا سکیں۔
منصور اعجازسے دوستی کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ان کا 2005 میں ایک دوست کے ذریعے منصور اعجاز سے تعارف ہوا تھا۔


Thursday, 1 December 2011

نیٹو حملے کے دوران ایئرفورس کی کوئی غلطی نہیں، پاکستان آرمی


اسلام آباد :  پاکستان آرمی نے کہا ہے کہ مہمند ایجنسی میں نیٹو حملے کے دوران پاکستان ایئرفورس کے کردار کے حوالے سے آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی کے بیان کو غلط رنگ دیا گیا۔
آئی ایس پی آر کی جانب سے جمعے کو جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’آرمی چیف کا کہنا تھا کہ ایئرفورس کی جانب سے نیٹو حملے کے وقت کوئی غلطی نہیں کی گئی ہے‘۔  بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اگر حملے کے وقت ایئرفورس پہنچتی تو نیٹو کو بھرپور جواب ملتا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ نیٹو حملے کے وقت سلالہ چیک پوسٹ کا کمیونیکیشن نظام متاثر ہونے کی وجہ سے چیک پوسٹ کا ہیڈ کوارٹرز سے رابطہ منقطع ہوگیا تھا۔


افغانستان میں نیٹوبیس کے قریب خودکش دھماکہ


 کابل : افغانستان کے جنوب میں قائم نیٹو بیس کے قریب خود کش حملہ آور نے خود کو دھماکے سے اڑا دیا جس کے نتیجے میں پانچ افراد زخمی ہو گئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق حملہ آوور بارود سے بھری گاڑی نیٹو بیس کے اندر داخل کرنا چاہتا تھا تاہم نیٹو فورسز کی جانب سے گاڑی کو چیکنگ کے لیے بیس کے باہر روکا گیا تاہم اس نے خود کو زور دار دھماکے سے اڑا دیا۔
دھماکے کے نتیجے میں دو پولیس اور تین افغان انٹیلی جنس اہلکار شدید زخمی ہوگئے۔ دھماکے کی ذمہ داری افغان طالبان نے قبول کر لی ہے۔


’میموکیس پر وزیراعظم کے بیان کو مثبت لیا جائے‘


اسلام آباد: پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنما بیرسٹر اعتزاز احسن نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ میں میمو کیس کی سماعت  پر وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کے بیان کو مثبت انداز میں لینا چاہیے کیونکہ وہ جب بھی بات کرتے ہیں معتبر انداز میں کرتے ہیں۔
اسلام آباد میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم نے جوبات کی ہے وہ معتبر ہے، میمو کیس میں کمیشن بننے کے بعد بھی پارلیمنٹ کا مؤثر کردار اپنی جگہ موجود ہے۔
انہوں نے کہا کہ میمو کیس میں سپریم کورٹ میں سیاسی مصالحت کی بات نہیں کی گئی تھی۔ اعترازاحسن نے کہا کہ قومی سلامتی کمیشن اور اس کے سربراہ متعبر ہیں تفتیش پر کوئی تضاد نہیں ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ اٹارنی جنرل سپریم کورٹ میں وفاق کی نمائندگی کے لیے موجود تھے اور ماضی میں بھی ایسی مثالیں موجود ہیں کہ اٹارنی جنرل کو سن کر کمیشن بنائے گئے۔
بیرسٹراعتزازاحسن نے کہا کہ ایف آئی اے اگر میمو کیس پر تفتیش کا آغاز کر دیتی تو سپریم کورٹ کے معاملے میں آنے کی ضرورت نہ پیش آتی۔
 ان کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ ہر کام تاخیر سے کر رہی ہے۔اعتزاز احسن نے کہا کہ حسین حقانی پر اعتماد ہے کہ ان کا میمو سے کوئی تعلق نہیں ہے لیکن مائیک مولن کو میمو کے پہنچنے کے ثبوت موجود ہیں ان دیکھنا یہ ہے کہ میمو لکھنے کا اصل ذمہ دار کون ہے۔


پاکستان کوآنکھیں بندکرکےکچھ نہیں ملےگا


واشنگٹن : امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے کہا ہے کہ ناٹو حملے پر پچھتاوا اور افسوس ہے، پاک امریکا باہمی تعاون پر آنکھیں بند کرکے کچھ نہیں ملے گا۔
پاکستانی وزیرخارجہ کو فون اور میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئےان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور افغانستان کی سرحد پر جو کچھ ہوا وہ حادثہ ہے، ہمیں اس واقعہ سے سبق سیکھنا چاہیے کیوں کہ ہمیں مل کر کام کرنا ہے۔
ہلیری کلنٹن کے بقول انہوں نے پاکستانی ہم منصب حنا ربانی کھر کو پہلے بھی فون کرکے امریکی عوام کی جانب سے بھی اظہار افسوس کیا تھا۔
امریکی وزیر خارجہ نے یہ بھی کہا کہ امید ہے افغانستان کے لیے کی جانے والی عالمی امن کوششوں میں پاکستان شریک ہوگا۔


جوابی کارروائی بغیراجازت کی جائے،جنرل کیانی


راولپنڈی: پاکستان کے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے پاک فوج کے جوانوں کو کسی بھی بیرونی حملہ کی صورت میں فوری کارروائی کا حکم دے دیا ہے۔
”ناٹو کے خلاف کارروائی کے لیے فوج پر چین اینڈ کمانڈ سسٹم لاگو نہیں ہوگا“
پاک فوج کے مرکزی دفتر جی ایچ کیو سے جاری ہونے والی ہدایت میں انہوں نے پاک افغان سرحد پر واقع تمام چیک پوسٹوں پر موجود فوجی افسران اور جوانوں پر واضح کیا ہے کہ حملہ آور کوئی بھی ہو جوابی کارروائی کا فیصلہ فوری کیا جائے۔
آرمی چیف کی طرف سے افواج پاکستان کو بھیجے گئےمراسلے میں کہا گیا ہے کہ مستقبل میں ناٹو یا ایساف نے پاکستانی حدود میں کوئی کارروائی کی تو فوج پر چین اینڈ کمانڈ سسٹم لاگو نہیں ہوگا اور چوکی میں موجود سینئر افسر فوری کارروائی کا فیصلہ کرے گا۔
پاک فوج کے چیف کی جانب سے دوٹوک بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بیرونی جارحیت کی صورت میں جوابی کارروائی کے لیے کسی اجازت کا انتظار نہ کیا جائے۔
جنرل کیانی نے کہا کہ پاک فوج جارحیت کے خلاف آخری دم تک لڑے گی، جوانوں کی قابلیت پر کوئی شک نہیں، جوانوں کو ہتھیار اور وسائل فراہم کرنا ان کا فرض ہے جو وہ پورا کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ قوم یاد رکھے کہ شہدا کا خون رائیگاں نہیں جائے گا،اب جوابی کارروائی کے لیے کسی ہدایت کی ضرورت نہیں ہوگی اور دستیاب ہتھیاروں سے ہر ممکن جواب دیا جائے گا۔
دی نیوز ٹرائب کے نمائندے کے مطابق آرمی چیف کا حکم نامہ پاک افغان سرحد سے پر واقع تمام چیک پوسٹوں پر پڑھ کرسنایا گیا اور اسے فوری طور پر نافذ العمل قرار دیا گیا ہے۔
 ذرائع کے مطابق پاک افغان سرحد پر پاک فوج کی ازسرنو تعیناتی کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے،مہمند ایجنسی میں ناٹو کے حملے سے چوکی کا مواصلاتی نظام تباہ ہو گیا تھا جس کی وجہ سے پاک فضائیہ کارروائی نہیں کرسکی اور ناٹو کے ہیلی کاپٹر بچ کر نکل گئے۔
ذرائع کے مطابق آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے ہدایت کی ہے کہ مستقبل میں جارحیت کرنے والے بچ نہ سکیں۔
واضح رہے کہ پاکستان کے قبائلی علاقے مہمند ایجنسی میں 26 نومبر کی صبح ناٹو کے حملے میں پاک فوج کے میجر اور کیپٹن سمیت 26 جوانوں کی ہلاکت کے بعد پاک فوج کو جارحیت کا بھرپور جواب دینے کا حکم دے دیا گیا ہے۔


لاپتاامریکی القاعدہ کےقبضےمیں،الظواہری


واشنگٹن : القاعدہ کے سربراہ ایمن الظواہری نے کہا ہے کہ پاکستان سے 3 ماہ قبل اغواء کیا جانے والا امریکی امدادی کارکن وارن ونسٹائن ہمارے قبضے میں ہے۔
”70 سالہ وارن ونسٹائن 5 برس سے پاکستان میں مقیم تھے انہیں مشرقی صوبے پنجاب کے دارالحکومت لاہور سے 13اگست کو اغواء کیا گیا تھا“
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق القاعدہ کے سربراہ نے31منٹ پر مشتمل اپنے نئے وڈیو پیغام میں امریکی باشندے کی رہائی کے بدلے 8مطالبات پیش کیے ہیں اور ساتھ ہی دھمکی دی ہے کہ اس پر عمل درآمد نہ کیے جانے کی صورت میں مغوی کو قتل کردیا جائے گا۔
ایمن الظواہری نے امریکا سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ القاعدہ کے مقتول سربراہ اسامہ بن لادن کے اہل خانہ اور نائن الیون واقعہ کے بعد پکڑے جانے والے افراد کو رہا کرے۔
القاعدہ سربراہ نے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ امریکا پاکستان، افغانستان، یمن اور صومالیہ پر فضائی حملے فی الفور روک دے بصورت دیگر امریکی شہری کی جان کی ضمانت نہیں دی جاسکتی۔


VIDEO

ENTER-TAB1-CONTENT-HERE

RECENT POSTS

ENTER-TAB2-CONTENT-HERE

POPULAR POSTS

ENTER-TAB3-CONTENT-HERE
 

The Pakistan Tribune Copyright © 2010 LKart Theme is Designed by Lasantha